Friday, February 1

پنجاب میں نیا صوبہ، کمیشن نے رپورٹ پیش کر دی


پاکستان کی پارلیمان کی جانب سے صوبہ پنجاب میں نئے صوبوں یا صوبے کے قیام کے لیے مقرر کیے گئے پارلیمانی کمیشن کے چیئرمین سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کمیشن کی رپورٹ اور مجوزہ آئینی ترمیم کا بل باضابطہ طور پر قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کو پیش کر دیا۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق بدھ کو قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں سپیکر قومی اسمبلی کو ان کے چیمبر میں یہ رپورٹ پیش کی گئی اور اس موقع پر کمیشن کے ارکان موجود تھے۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نےرپورٹ پیش کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں ضرورت کے مطابق تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ اس میں صوبہ پنجاب میں نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے ایک آئینی ترمیم کا بل تجویز کیا گیا ہے۔
اس کمیشن کے ایک رکن اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنماء جمشید دستی نے اتوار کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ پارلیمانی کمیشن نے جنوبی پنجاب کے علاقے پر مشتمل ایک نئے صوبے ’بہاولپور جنوبی پنجاب‘ کی تجویز کی منظوری دی ہے۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مزید بتایا کہ تجویز کردہ آئینی بل کے مسودے میں موجودہ صوبے کی سرحدوں میں رد و بدل کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اس بل کو قومی اسمبلی اور ایوان بالا یعنی سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظوری درکار ہو گی اور دونوں ایوانوں سے آئین کے مطابق اکثریت سے منظوری کے بعد صدر مملکت کی جانب سے اس بل کی منظوری سے پہلے اسے صوبہ پنجاب کی اسمبلی کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرنا ہو گا۔
طے کردہ قواعد کے مطابق کمیشن کو یہ رپورٹ سپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم کو پیش کرنا تھی اور اب سپیکر قومی اسمبلی اس پر آئندہ مناسب طور پر کارروائی کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس رپورٹ اور آئین میں ترمیم کے مجوزہ بل میں ترمیم، تبدیلی ، مسترد یا منظور کرے۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق پنجاب اسمبلی کو بھی اس بل کو مسترد کرنے کا حق حاصل ہے اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد بھی صدر مملکت اس کی منظوری نہیں دے سکتے ہیں۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس رپورٹ اور مجوزہ آئینی ترمیم کے بل کو جنوبی پنجاب کے علاقوں کے لوگوں کی شکایات اور ایک نئے صوبے کی تشکیل کی صورت میں اس کے ازالہ کے مطالبے کو ایک طاقتور سیاسی آواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس آواز کی گونج اس وقت تک سنائی دیتی رہے گی جب تک نظر انداز کیے جانے والے علاقوں کے دبے ہوئے اور مظلوم لوگوں کا مطالبہ پورا نہیں ہو جاتا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نئے صوبے کے قیام کا سفر طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے اور راستہ ناہموار ہو سکتا ہے لیکن یہ عمل ناقابل واپسی ہے۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے صوبہ پنجاب میں حکمران اور وفاق میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کی اس کمیشن میں شرکت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مسلم لیگ نون کے پاس اب بھی اچھا خاصا موقع ہے کہ جب یہ معاملہ بحث کےلیے پارلیمان اور صوبائی اسمبلی میں آئے تو وہ اس میں نمایاں حصہ ڈال سکتے ہیں۔
چودہ رکنی پارلیمانی کمیشن اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اگست سال دو ہزار بارہ میں قائم کیا تھا۔ مگر پنجاب اسمبلی نے کمیشن کے لیے دو ارکان کے نام نہیں دیے تھے۔
اس کمیشن کے رکن جمشید دستی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کمیشن نے تجویز دی ہے کہ اس نئے صوبے سے قومی اسمبلی کی انچاس نشستوں کے ساتھ خواتین کی بارہ مخصوص نشستیں ہوں گی۔
اسی طرح سینیٹ کے لیے اس صوبے کی تئیس نشستیں اور اس صوبے کی صوبائی اسمبلی کی ایک سو چوبیس نشستیں ہوں گی جن کے ساتھ چوبیس مخصوص نشستیں خواتین کے لیے ہوں گی۔
تجویز کردہ نئے صوبے کا دارالحکومت بہاولپور ہوگا اور اس میں بہالپور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن بھی شامل ہوں گے جبکہ سرگودھا ڈویژن کے دو اضلاع میانوالی اور بھکر کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔

No comments: